Home Urdu/Hindi لذت جنسی تجربہ اور اندھیری رات

لذت جنسی تجربہ اور اندھیری رات

واش روم کا لاک ٹک سے کھلنے کی آواز آئی جس سے عدیل کے چہرے پر مسکراہٹ آئ ۔ دروازہ کھلا اور چند سیکنڈ بعد کومل اپنا پیر دروازے سے باہر نکالا اور دروازے کو اندر کو دھکیل کر خود باہر آگئی ۔ عدیل کا انتظار ختم ہوا ، اس کی آنکھوں میں عجب سی شرارت جھلک رہی تھی ۔ وہ کومل کو سر سے پیر تک دیکھنے لگا ۔ اس کے سیاہ گھنے بالوں کی گیلی لٹیں اس کی کمر پر پھیلی تھی ۔ کومل کا رنگ سنہرا ، سرمائی آنکھیں جن پر عدیل اپنا دل ہار بیٹھا تھا ، نہایت تیھکے نین نقش اور جسمانی دولت سے مالا مال

0
498
Lazzat

Hot Erotic Sex Story Lazzat Jinsi Tajurba or Andheri Raat

عدیل سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنے صوفے پر بیٹھا کومل کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ اس کا قد چھ فٹ تھا ۔ جسامت کے لحاظ سے وہ ایک باڈی بلڈر معلوم ہوتا تھا ۔ چوڑے کندھے ، نمایاں چھاتی ، بائیسپس اور ٹریسپس میں تراشے ہوئے بازو اور پیٹ بلکل جسم کے ساتھ لگا ہوا ۔ قد اور جسامت سے عدیل خاصا طاقتور لگتا ۔ وہ صوفے کی ٹیک پر ایک ہاتھ پھیلائے انگلیوں کے پوروں سے ٹیک کو بجا رہا تھا کہ واش روم کا لاک ٹک سے کھلنے کی آواز آئی جس سے عدیل کے چہرے پر مسکراہٹ آئ ۔ دروازہ کھلا اور چند سیکنڈ بعد کومل اپنا پیر دروازے سے باہر نکالا اور دروازے کو اندر کو دھکیل کر خود باہر آگئی ۔ عدیل کا انتظار ختم ہوا ، اس کی آنکھوں میں عجب سی شرارت جھلک رہی تھی ۔ وہ کومل کو سر سے پیر تک دیکھنے لگا ۔ اس کے سیاہ گھنے بالوں کی گیلی لٹیں اس کی کمر پر پھیلی تھی ۔ کومل کا رنگ سنہرا ، سرمائی آنکھیں جن پر عدیل اپنا دل ہار بیٹھا تھا ، نہایت تیھکے نین نقش اور
جسمانی دولت سے مالا مال ، وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھا کر اس کے قریب آ رہی تھی ۔

کومل اس وقت مجنڈا رنگ کی نائٹی میں ملبوس تھی ، اس کی نائٹی گھٹنوں سے اوپر تک تھی ، عدیل نے ایک نظر اس کی ٹانگوں پر ڈالی ۔ ریشم جیسی ٹانگیں کومل نے پوری طرح ویکس کر رکھی تھی ، وہ اس قد چمک رہی تھی کے ہاتھ لگانے پر انگلیاں پھسلیں ، سلک کی نائٹی کی فٹنگ اس قدر خوبصورت تھی کہ کومل کا جسم اس میں سے ابھر کے باہر آ رہا تھا ۔ نائٹی کی تنیاں باریک تھی اور گلہ آگے کو جھکا ہوا تھا ۔ کومل کے ابھار اس نائٹی میں سے ابھر کے باہر آنے کو تیار تھے ، کومل نے برا بھی نہیں پہنی تھی ۔ کومل عدیل کے قریب آئی اور صوفے کی بائیں طرف سے شہد کی بوتل اٹھا کر عدیل کی ران پر بڑے پرسکون انداز میں بیٹھ گئی ۔ عدیل گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کومل کے ران پر بیٹھتے ہی پر لطف انداز میں مسکرایا ۔ ” زیادہ انتظار تو نہیں کروایا مسٹر عدیل ؟” کومل نے اپنے مخصوص انداز میں شہد کی بوتل کھولتے ہوئے پوچھا ، ” ہم تو عمر بھر آپ کا انتظار کرنے کو تیار ہیں ” عدیل نے نہایت مدھم مگر مضبوط لہجے میں کہا ۔ کومل نےشہد کی بوتل کھول کر چند قطرے عدیل کے ہونٹوں پر ڈالے اور پھر اپنی زبان سے ان قطروں کو چننے لگی ، عدیل نے ایک گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور اس کے ہاتھوں سے شہد کی بوتل پکڑ کر دوسرے ہی لمحے اس کو اپنے نیچے کرلیا ، عدیل اب کومل کے اوپر تھا اور کومل اونچے نیچے گہرے سانس لے رہی تھی جو ہمیشہ کی طرح عدیل کو بے قابو کر رہے تھے ۔ عدیل نے اس کی کمر پر سے گیلے بال ہٹائے اور وہاں شہد ڈال دیا ۔ اب وہ اس شہد کو اپنی انگلی پر لگائے کومل کے ہونٹوں کے قریب لے گیا ، کومل نے اس کے ہاتھ کو پکڑنے کی کوشش کی تو عدیل نے شہد والی انگلی اس کی گردن پر پھیری جس سے کو مل نہایت پرلطف ہوئی ۔ اب عدیل اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے شہد چاٹ رہا تھا ، اور کومل گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔ اب عدیل نے دھیرے سے اس کی نائٹی کی تنیاں کندھوں سے نیچے کی ، وہ کو مل کے ململ جیسے بازو پر پھسل گئیں ۔ عدیل نے انہیں کھینچ کر مزید نیچے کیا تو اسکے ابھار نائٹی کی قید سے آزاد ہوکر عدیل کے منہ کو لگے ۔ عدیل نے شہد کی بوتل اس کے ابھاروں پر انڈیل دی ، شہد اسکے ابھاروں کہ اوپر سے پھسلتا ہوا اس کے نپلز پر پھیل گیا اب عدیل نرمی سے ابھار کو منہ میں ڈالے اسے چوسنے لگا ، جیسے ہی عدیل نے شہد سے بھرے نپل کو اپنے ہونٹوں کے درمیان دبایا کومل کی سانس بھاری ہونے لگی اور وہ جوشیلے انداز میں سسکاریاں لینے لگی ۔ عدیل جس نرمی سے ابھار کو سہلا رہا تھا اور شہد کو چاٹ رہا تھا ، کومل اتنی ہی تیزی اور مزے سے آہ ، آہ کر رہی تھی ۔ جہاں بھی شہد پھیل رہا تھا عدیل وہاں سے کومل کے سنہرے بدن کو چاٹ رہا تھا ۔ جیسے جیسے عدیل کی کھردری زبان کومل کے نازک بدن پر پھرتی ، وہ لطف اور مزے کی کیفیت کو مزید شدت سے محسوس کرتی ۔ کومل کی نائٹی اس کے پیٹ پر پھسل رہی تھی کہ عدیل نے اپنا ہاتھ کومل کی ٹانگوں پر پھیرتے ہوئے اس کی نائٹی کے اندر ڈالا ، کومل نے نائٹی کے نیچے کچھ بھی نہیں پہن رکھا تھا ۔ تھوڑی سی کوشش کے بعد عدیل نے اس کی شرمگاہ پر ہاتھ رکھا اور اسے دھیرے دھیرے سہلانے لگا ۔ شرمگاہ پر ہاتھ لگتے ہی کومل نے ہلکی سی سسکاری لی اور صوفے پر لیٹ گئی ۔ عدیل ایک ہاتھ سے اس کی شرمگاہ اور دوسرے ہاتھ سے اس کے ابھار سہلا رہا تھا جب کہ وہ ساتھ ساتھ اس کی گردن پر لگا شہد اپنی زبان سے چاٹ رہا تھا ۔ شرمگاہ کے اوپر والے حصے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے عدیل نے اچانک سے اپنا ہاتھ ٹانگوں کے درمیان سوراخ پر پھیرا جس سے کومل نے ایک اونچی آواز نکالی ، اس آواز میں اس قدر نشہ تھا کہ عدیل میں اپنا ہاتھ مزید درمیانی حصے کے اندر کیا ، ” آپ کے اعضا ہمارے بغیر خشک پر جاتے ہیں ” عدیل نے کومل کو بے قابو ہوتا دیکھ کر بولا ۔ ” آہ۔۔۔۔۔۔۔ (بھاری سانس )تو آپ تر کیجئے نا ” کومل نے گہرے سانس لیتے ہوئے بولا ۔ عدیل نے اس کی نائٹی شرمگاہ سے اوپر کی اور خود نیچے جھک کر اس کی شرمگاہ کے اوپر اور اندرونی حصے پر شہد انڈیلنے لگا ، گاڑھے شہد نے جیسے ہی کومل کی ریشم کی سی شرمگاہ کو چھوا ، کومل کا جسم آگ برسانے لگا ، وہ بے صبری سے ٹانگیں کھولے اپنے ہاتھ صوفے پر رکھے سسکاریاں لے رہی تھی کے عدیل نے اپنا منہ اس کی ٹانگوں کے درمیان کیا عورت کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے پہلے شرمگاہ کے اوپر والے حصے پر ہونٹ رکھے اور دھیرے دھیرے زبان پھیرنے لگا ۔ عدیل کی زبان لگتے ہی کومل بے قابو ہوگئی اور بھاری بھاری سانس لینے لگی جیسے وہ بے حد لطف اندوز ہو رہی ہو ۔ اس نے اپنے پاؤں عدیل کی گردن کے گرد باندھ دیے جس سے عدیل کا منہ اس کی ٹانگوں کے درمیان قید میں آگیا ۔ عدیل نے اب اپنے ہونٹ اس کی شرمگاہ کہ عین درمیان پر پھیرے اور بائیں ہاتھ کی انگلی اس کے سوراخ کے اندر باہر کرنے لگا ، انگلی اندر جاتے ہی کومل ایک جھٹکے سے آگے کو اٹھی اور پھر صوفے پر لیٹ گئی ، شہد سے بھری اپنی انگلی وہ مسلسل اس کے اندر باہر دھکیل رہا تھا اور کومل مزے میں کبھی اپنے ابھار ہلاتی تو کبھی اپنی پشت کو جھٹکا دیتی ۔ شہد نے ان کی اس رات کو مزید مزے دار بنا دیا تھا کہ کومل یہ بھول گئی تھی کہ دروازہ لاک ہے بھی کہ نہیں ۔ عدیل کا یہی انداز کومل کو بہت پسند تھا کہ وہ ہر بار کسی نئے طریقے سے اس سے محبت کرتا اور ہر بار اسے پہلے سے زیادہ مزہ دیتا ۔ اپنی انگلی اندر باہر کرتے ہوئے عدیل نے اسے نکالا اور کومل کے ہونٹوں پر رکھ دیا ، کومل کسی بے صبرے بچے کی طرح اس کی شہد سے بھری انگلی کو چاٹنے لگی، شہد کے ساتھ اس میں کومل کو ایک الگ اور منفرد ذائقہ آ رہا تھا اور وہ اس ذائقہ سے بخوبی واقف تھی ۔ عدیل جب سارا شہد اس کی شرمگاہ کے اندر اور اوپر سے چاٹ چکا تو وہ صوفے سے اٹھ کر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کومل کی گردن میں ہاتھ ڈالے اسے اٹھایا ، اٹھتے ساتھ ہی کومل کی نائٹی اس کے پیٹ پر سے پھسل کر نیچے کو گری ۔ کومل اب تیزی سے اس کی پینٹ کی زپ کھولنے لگی اور زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے عدیل کی پینٹ اتار دی ۔ عدیل کا نفس اگلے ہی لمحے تنا کھڑا کو منہ چڑانے لگا ۔ کومل نے دائیں ہاتھ میں شہد کی بوتل پکڑی اور پر جوش انداز میں شہد کو عدیل کے نفس کے اوپر اور نفس کے نچلے گیندوں پر ڈالنے لگی ۔ عدیل بے حد لطف اندوز ہورہا تھا ۔ کومل نے نفس کے ٹوپی والے حصے کو شہد سے بھر دیا کہ شہد ٹوپی سے نیچے ٹپکنے لگا ، دوسرے ہی لمحے کومل نے نفس کو ہونٹوں کے درمیان دبایا اور اس کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوسنے لگی ، عدیل نے اپنے ہاتھوں سے اس کے بالوں کو پکڑا اور اپنا پورا نفس اس کے منہ میں دھکیلنے لگا ۔ عدیل کا نفس خاصا لمبا اور موٹا تھا یہ چاہتے ہوئے بھی وہ پوری طرح سے کومل کے منہ میں پورا نہیں آرہا تھا ۔ نفس اس قدر موٹا تھا کئی بار بار اندر دھکیلنے پر میں اس کے گلے میں لگتا ۔ کومل دونوں ہاتھوں سے نفس پکڑے اسے اپنے گلے تک لے جاتی اور اس پر سے شہد چاٹتی ۔ نفس سے شہد چاٹنے کے بعد کومل اب عدیل کے گیندوں پر زبان پھیرنے لگی جس سے عدیل گہرے سانس بھرتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔ اس کے جسم میں آگ بھڑکنے لگی اور اس نے ایک جھٹکے سے اپنی شرٹ اتار دی ۔ کومل یونہی اسکی ٹانگوں کے درمیان منہ دبائے اس کی گیندوں پر سے شہد چاٹ رہی تھی کچھ دیر بعد کومل عدیل کی ٹانگوں کے درمیان اپنی ٹانگیں کھولے بیٹھ گئی اور اس کا تنا و تر نفس اپنی شرم گاہ کے درمیان سوراخ پر رکھ دیا ۔ عدیل صوفے پر پسینے سے شرابور گہری سانس لے رہا تھا جبکہ کومل اس کی باہوں کے آغو ش میں اسکا نفس اپنی ٹانگوں کے درمیانی سوراخ میں لیے مسلسل جوشیلے انداز میں اوپر نیچے ہو رہی تھی ۔ پسینے کی بوندیں اسکی تھوڑی سے ٹپک کر گردن کے راستے اس کے ابھاروں کو بھگو رہی تھیں، عدیل نے اپنے ہاتھ اس کی پشت پر رکھے ہوئے تھے جبکہ کومل نے اپنے ہاتھ اس انداز سے پھیلائے کہ اس کے ناخن عدیل کی کمر میں دھنسے ہوئے تھے اور اپنے ہونٹ اس کے کان کے قریب کر کے کومل ہلکی مگر گہری سسکاریاں لے رہی تھی جس سے عدیل کے جسم میں آگ بھڑکنے لگی ، وہ بے تاب سا ہو کر کبھی اس کے ابھاروں پر زبان لگاتا اور کبھی اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ۔ کومل مسلسل اسکا نفس اپنے اندر لینے میں مصروف تھی ، وہ کسی بہت ہی مہار پورن سٹار کی طرح اس کے تر نفس کی ٹوپی پر اپنی شرمگاہ کو رکھتی اور اسے اندر کی طرف کھینچتی پھر ٹانگوں کے زور سے نفس کو اپنے اندر دھکیلتی ، جب مکمل نفس اس کے اندر پہنچ جاتا تب وہ پیروں پر بیٹھتی اور اپنی پشت کو اوپر کرتی جس سے نفس تین انچ تک باہر نکل آتا اور پشت نیچے کرنے پر دوبارہ اندر چلا جاتا ۔ وہ بے حد مہارت سے یہ عمل دہراتی ۔ وہ عدیل کو بے حد مسرور انداز سے دیکھتی جس سے عدیل مزید بیتاب ہوتا ۔ یوں تو کمرے میں اے_ سی چل رہا تھا مگر ان دونوں کی اندرونی آگ کو بجھا نہیں سکتا تھا ۔ کومل نے اب اپنی ٹانگیں عدیل کی کمر کے گرد باندھ لیں اور اپنے بازو اس کی کمر پر پھیلائے رکھے جبکہ عدیل نے اس کی پشت کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور کھڑا ہو گیا ، نفس ابھی تک کومل کے اندر موجود تھا ۔ عدیل نے کھڑے ہوتے ہی کومل کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ۔ کومل کے پورے جسم کو اس وقت عدیل کے نفس کا سہارا تھا ۔ جونہی عدیل نے کومل کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اسے اندرونی طرف کو دھکیلا ، نفس اندر باہر ہونے لگا ۔ عدیل اب پوری طاقت سے نفس کو اندر باہر کر رہا تھا ، کومل زوردار مگر پرلطف سسکاریاں لے رہی تھی ، ایک دوسرے میں کھوئے وہ دونوں گہرے گہرے سانس لے رہے تھے ۔ عدیل اپنا نفس مسلسل اس کے اندر دھکیلتا اور نکالتا ۔ یہ عمل جاری تھا کہ عدیل نے اپنے نفس کو ایک جھٹکا دیا اور اسے کومل کی ٹانگوں کے درمیان سے نکال کر اس کے پیٹ پر رکھا ۔ عدیل کے نفس سے سفید مع نکل کر کومل کے پیٹ پر پھیلنے لگا ۔ عدیل گہرے گہرے سانس لینے لگا ۔ کومل کی شرمگاہ سے بھی سہ نکلنے لگا ۔ عدیل نے کومل کو بیڈ پر لٹایا اور اس کے پیٹ کو ٹشو پیپر سے صاف کرنے لگا ۔ وہ دونوں گہرے سانس لے رہے تھے کہ اچانک سے کومل کا موبائل بجا ۔ وہ اس وقت بے حال ، پسینے سے شرابور بیڈ پر پڑی تھی کہ عدیل نے آگے بڑھ کر موبائل اس کی طرف کیا ۔ کومل نے فون اٹھایا اور چند جملوں کے تبادلے کے بعد فون رکھ دیا ۔ “فرحان کب آرہا ہے ؟” عدیل نے کومل سے پوچھا ، “اس ماہ کی پندرہ تاریخ کو “۔ کومل نے گہرا سانس لیتے ہوئے جواب دیا ۔ “مطلب ابھی ہمارے پاس اور محبت کرنے کا وقت ہے “۔ عدیل نے اطمینان سے کہا ۔ کومل اس کی طرف دیکھ کر اسے پوچھنے لگی ، “آپ کبھی شادی نہیں کریں گے ؟ اب تو میری اور فرحان کی شادی کو دو سال ہوگئے ہیں اور آپ تو فرحان سے بڑے ہیں “۔ عدیل نے نہایت محبت سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہنے لگا ، “میری جان!!! شادی کرنی ہوتی تو تمہاری شادی فرحان سے نہ کرواتا ، تمہاری شادی فرحان سے کروانے کا مقصد ہیں یہ تھا کہ تم میری نظروں کے سامنے ہو اور مجھے میسر رہو، باقی تم بھی جانتی ہو کہ میں اس شادی جیسے بورنگ رشتے میں نہیں بندھنا چاہتا “۔ عدیل نے نہایت کی تسلی سے اس کے ہاتھ سہلاتے ہوئے جواب دیا ۔ عدیل اب دھیرے سے تو میں کے ابھاروں کو سہلانے لگا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ، “تمہیں یاد ہے میرے اور تمہارے ریلیشن کے تین سال بعد جب تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارے گھر والے اب تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔” کومل عدیل کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ، “جی مجھے یاد ہے ۔۔۔۔۔۔ اور تب دو دن سوچنے کے بعد آپ نے یہ آئیڈیا دیا تھا کہ آپ میری شادی اپنے چھوٹے بھائی سے کروا دینگے “۔ کومل اپنا سر عدیل کے سینے پر رکھتے ہوئے بولی ، ” مگر مجھے بھی شادی میں کوئی انٹریسٹ نہیں تھا اور ہمارے ریلیشن میں بھی کبھی میں نے آپ سے شادی کا نہیں کہا تھا ۔ لیکن صرف آپ کے کہنے پر میں نے فرحان سے شادی کی، اگر میری فرحان کے علاوہ کہیں اور شادی بھی ہوتی تب بھی میں آپ سے یوں ہی ملتی جیسے ہم اب ملتے ہیں “۔ عدیل کچھ لمحے کومل کو دیکھتا رہا اور پھر بولا ، “اگر اپنے بھائی کی تم سے شادی نہ کرو آتا تو کوئی اور تمہیں لے اڑتا ، ایسے تمہیں اپنی محبت اور میرے بھائی کی بیوی بنا کر اس گھر میں لایا ہوں ، کیونکہ میں جانتا تھا فرحان شادی کے بعد دوبارہ امریکہ چلا جائے گا اور اس طرح ہمیشہ تم میرے پاس ، میری آنکھوں کے سامنے رہو گی ” ۔ کومل شرارتی انداز میں مسکرائ اور عدیل کے چہرے کے قریب آ کر بولی ، “اور اگر کبھی ۔۔۔۔۔ فرحان کو پتہ چل گیا تو ؟” عدیل نے نہایت دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا اور اس کے ایک ابھار کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دبایا جس سے کومل کی مدد سے سسکاری نکلی تو عدیل بولا ، “اس کے سامنے میں تمہارا جیٹھ ہوں اور تم میری بھابی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جیٹھ کو خوش کرنا بھابی کا فرض ہوتا ہے ” ۔ عدیل نے مسکرا کر کومل کو دیکھا پھر اسکے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر اسے چومنے لگا۔

Read More lazzat bhari story Humbistari ki khahish

Gif Credit : wetgif

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

error: Content is protected , seek permission!!