Ajnabi Or Jinsi Taskeen

“ندا اٹھ کر کنڈی لگا لو ، میں شام تک لوٹ آؤں گا ” ۔ اسد نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ندا کو بولا ۔ ندا اوازاری سے
اٹھی اور دروازے کی جانب بڑھ گئی ۔ دروازہ بند کرتے ہی وہ اپنے بیڈ روم میں آئی اور الماری کے ساتھ لگے فل سائز
شیشے میں خود کو دیکھنے لگی ۔ وہ نیلی سلک کی نائٹی میں ملبوس تھی ۔ نائٹی کے گاؤن کی بیلٹ کھولتے ہوئے اس نے
اپنے سینے کے ابھار پر ایک نظر ڈالی ۔ کالی نیٹ کی برا میں گندمی رنگت کی اس کی چھاتی بہت دلکش لگ رہی تھی ۔
اب اس نے اپنا گاؤن اتار دیا ۔ گاون کے نیچے اس نے نیٹ کا لال انڈرویر پہن رکھا تھا ۔ اب وہ جوڑے میں بندھے اپنے بالوں
کو کلیپ سے آزاد کرنے لگی ۔ کلپ کھلتے ہی ندا کے بال اس کی کمر پر پھیل گئے ۔ اس کے بال سنہرے رنگ کے تھے ۔ اب وہ
شیشے کے سامنے گھوم کر خود کو دیکھنے لگی ۔ اسکے فگرز، اسکا جسم ، رنگ ، آنکھیں، چھاتی کا ابھار ، کمر کا خم سب
کچھ اتنا مکمل تھا کہ وہ ضرورت نہیں کسی کی بھی خواہش بن سکتی تھی ۔ اس نے ایک گہری نظر اپنے جسم پر ڈالی
اور پھر غسل خانے کی طرف بڑھ گئی ۔

ندا اور اسد کی شادی کو آٹھ ماہ سے زیادہ وقت ہو گیا تھا مگر اسد کبھی اس
کے فگر اور جسم کو پیش نظر نہیں لایا تھا ۔ وہ شاید ان مردوں میں سے تھا جو شادی ضرورت پوری کرنے کے لیے کرتے
ہیں ۔ اس نے شاید کبھی ندا کے جسم کو پوری طرح سے دیکھا بھی نہیں تھا ۔ وہ ازدواجی تعلق بھی اندھیرے میں کرنے
کا عادی تھا ۔ ندا اور اسد کبھی ایک منزل کے راہی نہیں بن سکے ۔ ندا آٹھ ماہ میں بھی اس رشتے کو قبول نہیں کر پائی ۔
وہ ہمیشہ سے ایسا ہمسفر چاہتی تھی جو کہ اس کے حسن اور جسم فدا ہونے والا ہو ۔ دن کی روشنی ہو یا رات کا
اندھیرا وہ ہمیشہ ٹوٹ کر اس سے محبت کرے ، وہ ندا کے جسم کا شوقین ہو ، وہ اس کی چھاتی کے ابھار اور کمر کے
خم پر ہوش کھو دینے والا ہو ۔ مگر اسد اس سے بلکل الگ تھا ۔ ندا کبھی ازدواجی تعلق میں وہ خوشی ، تسکین اور مزہ
حاصل نہیں کرپائی تھی جو کہ اسے چاہیے تھا ۔ شام کو چھ بجے اسد کی کال آئی کہ آج رات دیر سے گھر آئے گا کیونکہ
اس کا دوستوں کے ساتھ باہر کھانا ہے ۔ باہر موسم بہت ہی خوبصورت تھا ۔ ندا کا آج کہیں باہر جانے کا من تھا مگر اسد
کے دیر سے آنے کا سن کر وہ اپنے بیڈ روم میں آ گئی ۔ ندا نے بیڈ روم میں آکر پردے ہٹائے اور کھڑکیاں کھول کر موسم سے
لطف اندوز ہونے لگی ۔ وہ اب اپنی نائٹی میں ملبوس تھی ۔ رات کے دس بج رہے تھے ، وہ اپنے خیالوں میں گم تھی کہ جب
دروازے کی گھنٹی بجی ، ” اسد اتنی جلدی کیسے آ گئے ؟” یہ سوچتے ہوئے وہ دروازہ کھولنے گئ تو سامنے ایک 18 19
سال کا خوبصورت نوجوان کھڑا تھا ۔ اس نے اپنے سیاہ بال جل لگا کر سمیٹ رکھے تھے ، کالے رنگ کی ٹی شرٹ میں اس
کی چوڑا سینا نمایاں تھا ، اس کا قد تقریبا چھ فٹ تھا ، اس کی آنکھیں سیاہ رنگ کی تھیں ۔ وہ بے شک بہت خوبصورت
تھا ۔ ندا سر سے پیر تک اس کا جائزہ لے رہی تھی کہ اس نے ندا کو مخاطب کیا ، ” آپ کے فون سے ایک کال کر سکتا ہوں ؟
دراصل میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ میری بائیک آپ کے گھر کے سامنے خراب ہوگئی مجھے اپنے دوست کو کال کرنی
ہے “۔ ندا جوکہ بری طرح اس کے سحر میں گرفتار ہو چکی تھی مسکراتے ہوئے سر ہلانے لگی اور اسے اندر آنے کا راستہ
دیا ۔ وہ مسکراتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا ۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس گھر میں اسکا سامنا اتنی حسین و جمیل عورت سے
ہوگا ، جو کہ حسن کی دولت سے مالا مال ہے ۔ ندا کونیلی نائٹی میں ملبوس دیکھ کر وہ چند لمحوں کے لیے یہ بھول گیا
تھا کہ وہ یہاں آیا کیوں ہے ، اور ندا کو دیکھ کر وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا ۔ ندا بیڈروم کی طرف فون میں نے گئ
تو شامیر بھی اس کے پیچھے بیڈ روم میں داخل ہوگیا ۔ ندا نے اسے کمرے میں آنے سے نہیں روکا تھا ۔ شامیر اب کمرے
کا جائزہ لینے لگا ، وہ ندا کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ، ندا اس کے قریب آ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی ،
“ایسی نظر سے کبھی میرے شوہر نے مجھے نہیں دیکھا ” ، شامیر اس کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا : ” شاید انہیں اندازہ
نہیں ہے کہ ان کے پاس کیا خزانہ ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس وہ نظر ہی نہ ہو جس سے خوبصورتی کو دیکھا
جاتا ہے ” ، شامیر کی بات پر نداکھلکھلا کر ہنسی اور اس کے مزید قریب آ گئی ۔ ” تو۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاس وہ نظریں ہیں؟”
ندا نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیے، “جی ! میرے پاس وہ نظر بھی ہے اور مجھے خزانے کی پہچان بھی
ہے، لیکن وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ کہ ایک دیدار ضروری ہوتا ہے “۔ شامیر بہت پرسکون تھا ۔ اس کی بات سن کر ندا اس سے
کچھ قدم دور کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی اور پردہ آگے کرتے ہوئے اس نے اپنے گاؤن کی بیلٹ کھولی، اور دوسرے
ہی لمحے اسے اتار دیا، کیونکہ وہ یہ موقع گوانا نہیں چاہتی تھی ۔ ایک بار ہی سہی وہ ایسی محبت چاہتی تھی جس کی
وہ حقدار تھی، جس محبت کا اس کا جسم حقدار تھا ، اس نے آٹھ ماہ میں ایک دفعہ بھی وہ مزہ محسوس نہیں کیا تھا
جو وہ اب کچھ لمحوں بعد محسوس کرنے والی تھی ۔ شامیر جو کہ اس کے جسم کو دیکھنے کا خواہش مند تھا ، وہ بے
یقینی سے اسے دیکھنے لگا ۔ ندا نے اسے اپنا دیدار کروا دیا تھا ۔ اب وہ اس کے قریب آ رہی تھی ، اس نے لال رنگ کی برا اور
انڈرویئر پہن رکھا تھے ، شامیر کے قریب آکر بولی ، ” صرف دیدار کی خواہش تھی، اس خزانے کو یوں ہی چھوڑ جاؤ
گے ؟ ” ندا کے لہجے سے شامیر کا خلق خشک ہو رہا تھا، وہ خود کو بے حد پیاسا محسوس کرنے لگا ، ندا اس کے ہونٹوں کے
قریب آئ اور اسکا اوپر والا ہونٹ اپنے نچلے ہونٹ میں دبا لیا، یوں وہ دونوں ایک دوسرے کو چومنے لگے، شامیر مسلسل
ندا کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے انھیں چوس رہا تھا ساتھ ہی ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اس کے جسم پر پھر رہا تھا ،
وہ کبھی اس کے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر چوستا اور کبھی اوپر والے ہونٹ پر زبان سے لعاب لگاتا۔ وہ دونوں ایک
دوسرے میں مگن سانسوں کا تبادلہ کر رہے تھے کہ ندا نے اپنا اوپر والا ہونٹ شامیر کے منہ سے نکالا اور ایک گہرا سانس
لے کر بولی ” بتاؤ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خزانے سے کیا چاہیے تمہیں ؟” ندا کی آواز میں اتنا سرور تھا کہ شامیر خود کو روک نہ
سکا اور اپنے دونوں ہاتھ اس کی چھاتی پر رکھ کر اسے سہلانے لگا ۔شامیر کے ہاتھ اس کی نیٹ کی برا پر پھسلنے لگے ،
یہی وہ چیز تھی جس کی ندا خواہشمند تھی ، آج رات وہ اپنی پیاس بجھانا چاہتی تھی ، محبت میں خود کو تھکا کر
چور کر لینا چاہتی تھی ۔ ندا نے پھر اپنے ہی ہونٹوں پر زبان پھیرنا شروع کر دی ، شامیر بے قابو ہوکر اس کے قریب آیا
اور اپنی لعاب اس کے ہونٹوں پر لگانے لگا جس نے ندا اسکی لعاب کو چاٹنے لگی اور اپنے ہاتھ اس کے سینے پر پھیلا دیے ،
شامیر نے اس کے شانوں پر اپنے ہاتھ مضبوطی سے رکھے اور ندا کے منہ کو پکڑ کر اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے منہ میں لیا
اور چومنے کا عمل دوبارہ سے شروع کیا ۔ اب وہ مکمل طور پر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبائے انہیں چوس رہا
تھا اور اپنا دایاں ہاتھ اس کی کمر پر پھیر رہا تھا ، جیسے کسی چھوٹے بچے کو سہلایا جاتا ہے ۔ ہونٹ چومتے ہوئے شامیر
نے ندا کی برا کے ہک کھول دیے ، جس سے اس کی تنی ہوئی چھاتی آگے کو ڈھلک گئی ، اب شامیر ندا کی برا کا سٹرپ
اس کے کندھوں سے نیچے کی جانب لانے لگا ، اور دوسری طرف شامیر پوری طرح اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید
کئے ہوے تھا ۔ ندا جو اس سب سے بہت لطف اندوز ہو رہی تھی، برا اترتے ساتھ ہی شامیر نے اس کی چھاتی پر ایک نظر
ڈالی، سنہری گندمی رنگ جیسی نرم و ملائم مگر تنی ہوئی ریشم کا ابھار ، جس کی ہر مرد خواہش کرے، ان ابھاروں پر
گہرے بھورے رنگ کے اس کے نمایاں نپل جن پر شامیر دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگا ۔ اسے وہ اتنے پرکشش لگے کہ اس
نے تھوڑا سا جھک کر ایک ابھار کو منہ میں لے لیا اور اسے انگلیوں سے ہلکا سا دبایا ، اب وہ اس کے نپل کو دھیرے دھیرے
چوسنے لگا ، ندا کی سانسیں بھاری ہونے لگی ، وہ آوازیں نکالنے لگی ، وہ پہلی بار اس طرح کے احساس سے واقف ہوئی
تھی، اسکا پورا جسم انگارے برسا رہا تھا ۔ شامیر اس کے جسم سے پیدا ہونے والی حرارت محسوس کر سکتا تھا ۔ شامیر
نے اپنا بایاں ہاتھ اس کی پشت پر رکھا اور دایاں ہاتھ اس کی گردن کے پچھلے حصے پر رکھ کر اس نے جیسے ہی اپنے ہاتھ
اٹھائے ندا اس کی گود میں تھی ، شامیر اب تک نپل چوس رہا تھا اور اسی طرح اسے بیڈ پر لے آیا ۔ شامیر اب دوسرے نیپل
کو ہونٹوں میں دبائے اسے چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے آہستگی سے اس کی چھاتی سہلا نے لگا، ندا کو اس قدر مزا آنے لگا
کہ وہ بھاری بھاری سانسیں لینے لگی ، جس سے شامیر مزید اس کے سحر میں ڈوبنے لگا ۔ ندا نے شامیر کے بازو کو ہوا میں
اٹھایا اور اس کی شرٹ اتارنے لگی ، شامیر اب دوبارہ اس کی چھاتی پر ہاتھ پھیر رہا تھا جس سے ندا مسلسل لطف اندوز
ھو رھی تھی ۔
شامیر کی شرٹ اتارتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی پینٹ کی زپ کھولی اور دوسرے ہی لمحے اس کی پینٹ
اتار دی ، جس سے اس کا تنا ہوا نفس پینٹ کی قید سے آزاد ہو گیا ۔ ندا کے لیے شامیر کا نفس کسی خواب جیسا تھا، اسد
کے بعد شامیر کا نفس اسے کافی لمبا اور موٹا لگ رہا تھا ۔ ندا نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے نفس پر پھیرنا شروع کر دیے، وہ
اس قدر تنا ہوا تھا ندا کے ہاتھ پھیرنے سے وہ مزید سخت ہو گیا ۔ ندا کے ہاتھ لگتے ہی شامیر میں نے اپنی آنکھیں بند کر
لیں ، ندا اپنے ہاتھ طریقے سے پھیل رہی تھی کہ شامیر کو مزا آنے لگا اور وہ اپنی آنکھیں اوپر کئے لطف اندوز ہونے لگا ۔
شامیر اس وقت ندا کے اوپر موجود تھا اور وہ اس کے کان کی لو پر اپنی زبان پھیر رہا تھا ، جبکہ ندا اس کے نفس کو چھو
کر ہی بے حد پر سکون ہو رہی تھی اور وہ بار بار مسکرا رہی تھی ۔ شامیر نے اب اس کے بازوؤں کو تکیے پر رکھا اور ان
پر اپنے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کر لی ، اور اس کے کان کے قریب آ کر دھیرے سے بولا : “میں تو خزانہ لوٹنے آیا ہوں ،
مجھے تو سارے کا سارا چاہیے”
ندا کو سوال کا جواب دے دیا گیا اور ساتھ ہی اس کی خواہش مکمل ہونے کا اشارہ بھی کر دیا گیا ۔ ندا نے اپنی ٹانگیں
اوپر کو اٹھائیں اور شامیر اس کی پشت کو ایک ہاتھ سے اٹھائے دوسرے ہاتھ سے اس کا انڈرویئر اتارنے لگا ، انڈرویر اتارتے
ہی اس نے ندا کی پشت پر اپنا ہاتھ پھیرا اور دوسرے ہی لمحے ندا کو ہاتھ کی مدد سے اپنے اوپر کر لیا ۔ ندا جو کہ اب
شامیر کے اوپر تھی ، دیوانوں کی طرح اس کی گردن اور سینے کو چومنے لگی ۔ شامیر اسکی پشت پر ہاتھ رکھے اس کی
گردن کو چومنے لگا ، ندا آج پہلی بار روح کا سکون حاصل کر رہی تھی ، وہ نہیں جانتی تھی کہ مزید یہ کتنی بار ہوگا
اور کب ہوگا ؟ یہی لڑکا ہوگا یا کوئی اور ہوگا ؟ مگر اس وقت وہ اس طرح کے سوالوں میں الجھ کر اپنا مزہ خراب نہیں
کرنا چاہتی تھی جس نے ہمیشہ سے خواہش کی تھی ۔ ندا نے اب اپنا سر شامیر کے سینے پر رکھ دیا، بہت سے جذبات تھے
تو یک دم اجاگر ہوئے تھے، وہ آج سے پہلے ایسا محسوس نہیں کر پائی تھی ۔ ایک عجیب سا سکون تھا جو کہ اس کے
دل میں اترا تھا ۔ شامیر اس کے بالوں میں دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگا ، تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کے ماتھے پر بوسہ
دیتا ، ندا کو اسکا ایسا کرنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ شامیر اسکی کمر کو آئستگی سے سہلانے لگا ، جیسے وہ اس کی کمر پر
مساج کر رہا ہو ۔ وہ مسلسل ندا کو دیکھ کر مسکراتا جس سے ندا بھی مسکرا دیتی ۔ اسے یہ سب کسی خواب جیسا لگ
رہا تھا ، باقی خوابوں کی طرح یہ بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں تھا ، مگر وہ خوش تھی کہ اس کا خواب پورا ہورہا ہے ۔ اب
ندا نے اسکے سینے سے سر اٹھایا اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے چومنے لگی ۔ ندا اپنے جذبات کو کوئی نام نہیں
دی پا رہی تھی ، بس وہ جی بھر کر اسے دیکھنا چاہتی تھی، اسے چھونا چاہتی تھی ۔ شامیر نے ندا کے دونوں ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اسکے ہاتھ چومتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا ۔ اب وہ اسکے گالوں پر بوسہ دینے لگا اور پھر اسکو باہنوں
میں لئے اسکے اوپر آگیا۔ ندا بےحد پرسکون تھی ۔ شامیر نے اب اسکی ٹانگوں کو کھولا اور اپنے دائیں ہاتھ پر لعاب لے کر
اسے ٹانگوں کے درمیان لگانے لگا ، لعاب لگتے ہی ندا تڑپ اٹھی اور اس نے اپنی ٹانگیں مزید کھول لیں۔ شامیر اب اسے نرم
ہاتھوں سے تر کرنے لگا۔ وہ بہت ہی نازکی سے اپنی انگلیاں اس کے اندر باہر کر کے اسے مکمل تور پر تر کر رہا تھا۔ ندا نے
اپنے ہاتھ چادر پر پھیلا رکھے تھے اور وہ مسلسل ہل رہی تھی۔ شامیر نے دھیرے سے اپنا نفس اسکے تر حصے پر پھیرا ،
ندا نے ایک زور دار چیخ ماری اور گہرے سانس لینے لگی۔ شامیر نے اب اپنے نفس کو اسکے اندر نہایت نرمی اور پیار سے
دھیکلا ، جس نے ندا نے پہلے سے زیادہ زوردار چیخ ماری ، اب اسکی ٹانگیں پوری طرح شامیر کی کمر کے گرد بندھی ہوئی
تھیں اور شامیر اپنا نفس پوری طرح اس میں دھکیل چکا تھا۔ ندا بھاری بھاری سانسیں لینے لگی اور اونچی آواز میں
چیخنے لگی، شامیر اب مسلسل اپنے نفس کو اندر باہر دھکیل رہا تھا۔ وہ خود بھی گہرے سانس لے رہا تھا، ” ندا کیا تمہیں
درد ہو رہی ہے ؟” شامیر نے نفس کو ذرا سا باہر نکال ندا کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ” نہیں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔ درد نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بھاری سانس)۔۔۔۔۔۔۔آہ” ، اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے شامیر نے اپنا نفس پوری طرح اس
میں دھکیل دیا۔ ” گہری سانس لو، میں ہوں نا تمھارے ساتھ۔۔۔۔۔ اس لمحے کو پر لطف ہو کر جیو” ۔ شامیر نے اسکا ماتھا
چومتے ہوئے اسے تسلی دی ۔ اس درد میں مزہ تھا یا مزے میں درد تھی وہ نہیں جانتی تھی
ہاں مگر وہ اس وقت بہت پرسکون تھی ، شامیر کی موجودگی اسے تسکین دے رہی تھی۔ شامیر اب مسلسل اپنا نفس
اسکے اندر دھکیل رہا تھا ، باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی ، گھڑی رات کے ساڑھے بارہ بجے جارہی تھی ، کھڑکی کا پردہ
ہوا میں جھوم رہا تھا اور وہ دونوں اس رنگین شام میں۔

Latest stories

Dark Night, Gangster and Avni

Hot English Sex Story Dark Night, Gangster and Avni. The dim blue light in Avni’s room was not enough to overcome the darkness of that...

Her Guilty Pleasure

“It’s been five months since Azhar left. I miss him every day. Every second, minute and hour. Some of his shirts remind me of...

Kama Sutra – Story of an unsatisfied queen

"Farewell my love, I hope I'll see you soon." And Maharaja set off. Maharaja as in Maharaja Dileep Singh. King of Raghavendranagar. And his...

لذت جنسی تجربہ اور اندھیری رات

عدیل سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنے صوفے پر بیٹھا کومل کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ اس کا قد چھ...

Similar stories

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Subscribe to our newsletter

error: Content is protected , seek permission!!