Humbistari ki khahish

میرا سیف کے گھر آنا جانا لگا رہتا ہے ۔دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ہم آفس میں کولیگ بھی تھے ۔اکثر اتوار کو چائے کے لیے وہ اپنے گھر پہ بلا لیتا تھا ۔ سیف کی بیوی زوحا اکثر چائے پر ہمیں کمپنی دینے آ جایا کرتی تھی ۔ سیف ایک ہفتے کے لئے شہر سے باہر آفس کے کام سے گیا تھا ۔اس دوران ایک رات اچانک مجھے زوحا کی کال آئ۔ اس نے کسی پارٹی میں جانا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ میں اسے ڈراپ کردوں ۔ میں اس کے گھر گیا تو اس نے آ کر دروازہ کھولا مگر وہذرا ایک منٹ ،کہہ کر اتنی تیز رفتاری سے اندر گی کہ میں اسے ٹھیک سے دیکھ بھی نہ پایا ۔میں نے کچھ دیر باہر انتظار کیا پھر میں دروازہ بند کر کے اندر چلا گیا ۔اس کے بیڈروم کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔وہ بیڈ پر آگے کو جھک کر کوئی چیز اٹھا رہی تھی ۔اس کو دیکھتے ہی میرا دل باہر کو آگیا ۔

اس نے نیلے رنگ کی شیفون کی ساڑھی پہن رکھی تھی ۔ زوحا دیکھنے میں بظاہر پانچ فٹ چار انچ ، گہری سیاہ آنکھیں ، ابھری ہوئی چھاتی ، خم دار کمر ، ملائی جیسے ہونٹ اور صاف رنگت ، بے شک وہ حسن کی ایک مکمل تصویر تھی ۔ اس کی کمر پر بلاؤز کے نام پر صرف ایک ڈوری تھی ۔ بلاؤز کی ڈوری سے تھوڑا اوپر اس کے بال آرہے تھے جسے اس نے اسٹریٹ کیا ہوا تھا ۔ میرے قدم اپنے آپ اس کی طرف بڑھنے لگے ۔مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر وہ ویسے ہی بیڈ پر سے اپنی جیولری سلیکٹ کر رہی تھی ۔میں نے بے ساختہ سا ہو کر اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس کی برہنہ کمر کو چھوا ۔ وہ یک دم سیدھی ہوگئی اور ایک جھٹکے سے مڑی۔ اب میں اسے اچھی طرح دیکھ سکتا تھا ۔گہرے گلے کی اس ساڑھی میں اس کا آٹھ انچ تک پیٹ برہنہ ہو رہا تھا ۔بلاؤز اس قدر بریک تھا کہ اس کی چھاتی بھی نظر آ رہی تھی ۔میں کہیں کھو چکا تھا، میں کسی شراب کے نشے میں جھولنے لگا جب اس کی آواز نے مجھے بیدار کیا ،اوہو صارم تم ، آؤ بیٹھو نا۔ میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس میں بے ساختہ اس کو دیکھتا رہا ۔اس نے میرے شانے کو زور سے جھٹکا ۔مجھے یوں بدحواس دیکھ کر وہ کنفیوز ہو گئی ۔بیڈ پر سے اس نے سونے کی چین اٹھائ اور سنگھار میز کی جانب بڑھ گئی ۔اب وہ چین کو اپنی گردن کے گرد باندھ رہی تھی ۔میں اس کی پیٹھ کی طرف تھا ۔میں نے اس کی جانب قدم بڑھایا اور چین کا لوک اس کی انگلیوں سے اپنی انگلیوں میں لے لیا ۔اب میرے اور اس کے درمیان صرف دو انچ کا فاصلہ تھا ۔سنگھار میز کے شیشے میں اس کے گہرے گلے کو دیکھ سکتا تھا ۔چین کا لوک بن کرتے ہی میں نے اس کو سیٹ کیا اسکا پینڈنٹ سیدھا سینے کی درز کے درمیان اٹک گیا ۔اب اس کا سرور مجھ پر طاری ہونے لگا تھا ۔وہ میرے اتنے قریب تھی کہ میں اس کی سانسیں بھی سن سکتا تھا ۔اب وہ میری طرف مڑی ۔اس کے تاثرات بالکل نارمل تھے ۔میں نے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو اس کی تھوڑی پر رکھتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کو کیا ۔میں اس کے بدلتے تاثرات دیکھ سکتا تھا ۔ اب ہم دونوں بالکل آمنے سامنے تھے ۔ شیفون کی ساڑھی کا پلو جو کہ اس نے بائیں کندھے پر ڈال رکھا تھا میں نے اسے دائیں ہاتھ سے نیچے گرا دیا ۔شاید یہی وہ ایک اشارہ تھا جس سے وہ میرا ارادہ سمجھ سکتی تھی ۔زوحا گھبرا کر اپنا پلو اٹھانے کے لئے جھکی ۔ چھاتی کے بھار کی وجہ سے بلاؤز کا گلا مزید آگے کو ڈھلکا۔ جس سے میں بری طرح بےقابو ہو گیا ۔جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی ،وہ میرے نفس کے ابھار کو دیکھ کر پریشانی کے عالم میں دروازے کی طرف بڑھی ۔میں بھاگتا ہوا اس کے پیچھے گیا اور اسکے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا ۔ میں نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور کمرے میں رکھے پانی کے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلنے لگا ۔ میں اس کے لئے شام حسین بنانا چاہتا تھا، یہ ایک شام جو مجھے نصیب سے اس کے ساتھ ملی تھی اس میں اپنی پیاس بجھانا چاہتا تھا ۔ مگر کسی زور زبردستی سے نہیں بلکہ اس کی رضامندی سے ۔ پانی پینے کے بعد اس نے دو چار گہرے گہرے سانس لیے اور پھر منہ پر ہاتھ رکھے بولی ،میں تمہیں پسند کرتی ہوں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیف ان کو پتہ چلا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی،ششش ! کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ،آج کی رات تو میرے نام کرو ،تمہاری روح آج ان چیزوں کا مزہ چکھے گی جو شاید سیف تمہیں نہ دے پائے۔ اب میں اس کے برابر میں جا بیٹھا ۔میں نے اپنے ہاتھ کو پانی کے جگ میں ڈالا اپنی انگلیوں سے ٹپکنے والے پانی کے قطرے اس کے ملائی جیسے ہونٹوں پر لگانے لگا ۔اس کی سانسیں دھیرے دھیرے بھاری ہونے لگی ۔میں نے اپنا ہاتھ اس کی صراحی جیسی گردن پر پھیرا اور اس کی چھاتی کی درز پر نرمی سےاپنی زبان پھیری ۔ اس نے گردن کو ذرا سا خم دے کر بھاری آواز میں سانس لیا ۔اب میرے جسم کی پیاس بڑھنے لگی ۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے بلاؤز کے گرد حمائل کر دیے ۔اب میں دھیرے سے بلاؤز کی دوڑی کھولنے لگا ۔ میری انگلیوں کی حرکت سے اس کا جسم حرکت میں آنے لگا ۔وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔ڈوری کھولتے ہی میں نے بلاؤز کو آگے سے کھینچا ، وہ ایک جھٹکے میں اتر گیا ۔اب میں اس کی سنہری جلد کو بنا کسی پردے کے دیکھ سکتا تھا ۔ زوحا تصور میں کئی بار بے لباس میرے سامنے آئی تھی ۔ مگر آج حقیقت میں اس کو اپنے سامنے یوں برہنہ دیکھ کر میرے دل کو راحت سی ملی ۔ میں نے اس کی چھاتی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں سہلانے لگا ۔اس نے بھاری سانس لیا اور سیدھی بیڈ پر لیٹ گئی ۔اب تو وہ مجھے ہاتھ سے کھینچ کر اپنے اوپر لا رہی تھی ۔اب میں پوری طرح زوحا کے اوپر آ چکا تھا ۔میں نے اس کی گردن کو دانتوں کے درمیان دبایا ۔اس نے بہت نازکی سے چیخ ماری ۔ پھر میں اس کی گردن کو مسلسل چوم رہا تھا ۔وہ بھاری سانسوں کے ساتھ میرا نام پکار رہی تھی ۔میں اپنا سر اٹھا کر اس کے ہونٹوں کو دیکھنے لگا ۔زوحا نے سرخ رنگ کی لپسٹک لگا رکھی تھی ۔اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں دباتے ہوئے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ان میں کوئی بے چینی نہیں تھی ۔وہ پرسکون تھی ۔اور میں یہ رات اس کے لئے بہت یادگار بنانا چاہتا تھا ۔اب میں اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں دبائے اس کی چھاتی کو مسلسل دائیں ہاتھ سے سہلا رہا تھا۔ میرا ایسا کرنے سے اس کے جسم میں حرارت پیدا ہو رہی تھی ۔ وہ اپنی چھاتی اور کمر کو اوپر نیچے کر رہی تھی ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے ۔مگر ابھی میں اسے چومنا چاہتا تھا ، مزید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت زیادہ ، اسے چومنے سے میرے اندر کی پیاس بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر پھیلا رکھے تھے ۔ وہ ٹانگیں کھولنے کی مسلسل ناکام کوشش کر رہی تھی ۔ ساڑھی کی وجہ سے وہ ٹانگیں کھول نہیں پا رہی تھی اور میں کسی بھی چیز کو یوں رو کاوٹ بننے نہیں دے سکتا تھا ۔ میں اسے ہر طرح کے لباس سے آزاد کر دینا چاہتا تھا ۔ میں اس کو بے لباس دیکھنا چاہتا تھا تو میں نے اس کے اوپر لے ہونٹ کو اپنے نچلے ہونٹ میں دبایا جس سے اس کی زبان میرے منہ میں آگئی اور میں اسے دانتوں میں لے کر چوسنے لگا ۔ تھوڑا اوپر کو اٹھ کر میں نے اس کی ساڑھی کو کھولنا شروع کیا ۔ بنا نیچے دیکھے کچھ ہی دیر بعد وہ کھل گئ ۔ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے اتار رہا تھا ۔ زوحا کے ہاتھوں کا زور میری کمر کے گرد بھرتا جا رہا تھا ۔ اگلے ہی لمحے میں نے اس کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی اور اور ایک جھٹکے سے اس کی ساڑھی کھینچ کر اتار دی ۔ اب وہ بالکل بے لباس میرے سامنے تھی۔ جم کرنے سے اس کا جسم نہایت ہی خوبصورت تھا ۔ یوں جیسے کسی نے مورت کو تراشا ہو ۔ اس کی کمر کا خم اس قدر خوبصورت تھا کہ میں اپنی نظریں نہ ہٹا پایا ۔ میں اب نہایت نرمی سے اس کے جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا ۔وہ مسلسل اپنی ٹانگوں اور کمر کو ہلا رہی تھی ۔ یوں جیسے وہ بہت ہی لطف اندوز ہو رہی ہو ۔ اس کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے میں نے اس کے کان پر زبان پھیری ، زوحا نے ایک بھاری سانس لیا اور اپنے ہاتھوں سے میرا منہ پکڑ کر مجھے چومنے لگی ۔ میں نے اس کی دائیں ٹانگ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کو کھولا ، زوحا نے اپنی دونوں ٹانگیں میری کمر کے گرد پھیلا دیں اور اپنے ہاتھوں سے میرا بیلٹ کھولنے لگی ۔ بیلٹ کھلتے ہیں اس نے پینٹ کے بٹن کو کھولنا شروع کیا ، اور پینٹ کو اتار دیا ۔میرا نفس بالکل تنا ہوا تھا ۔زوحا نے ایک نظر میرے نفس کو دیکھا اور پھر میری آنکھوں میں دیکھا ۔اس کے چہرے پر ایک عجیب سی بے قراری تھی ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ اس نے میرا نفس اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس پر زبان پھیرنے لگی ۔ وہ اپنا ہاتھ مسلسل اس پر پھیر رہی تھی ۔ میں جیسے بے قابو سا ہوتا گیا ۔ اس کے بال میرے نفس کے ساتھ لگ رہے تھے۔ میں نے اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے سمیٹا ۔ میں بھاری بھاری سانس لینے لگا ۔ زوحا جیسی سمارٹ، خوبصورت اور ماڈرن عورت میری ہم بستر تھی مجھے اور کیا چاہیے تھا ؟ میری اور کیا خواہش ہو سکتی تھی ؟ میں نے دائیں ہاتھ سے زوحا کے منہ کو اوپر کیا اور اسے دیوانہ وار چومنے لگا ۔ ہم دونوں مکمل طور پر بے قابو ہو چکے تھے ۔ میں نے بہت آہستگی سے زوحا کو بستر پر لٹایا اور اس کی چھاتی پر زبان پھیرنے لگا ۔ زوحا نے مدھم سی آوازیں نکالنا شروع کیں ۔ اس کی آوازوں سے میرے دل کو ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی ۔ اس کی چھاتی کا اوپر والا حصہ میں نے دانتوں میں دبا لیا ۔ اب اس کی مد ھم آوازیں بلند ہونے لگی ۔ یوں جیسے اسے تھوڑی سی درد ہوئی ہو ۔ مگر اس درد سے مجھے بہت مزہ مل رہا تھا ۔ میں اس کی چھاتی کو دانتوں میں دبائے چوس رہا تھا اور اس نے میرا نفس اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ وہ اب اس پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرنے لگی ، جس سے مجھے مزا ملنے لگا ۔ میں نے اپنا سر اٹھایا اور اس کے منہ کے قریب لے گیا ۔میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں اس کے منہ میں ڈال دیں جس کو وہ زور زور سے چوسنے لگی ۔ جس طرح چھوٹے بچے کو کوئی ٹافی دے دی جائے ۔ پورے جوش سے میری انگلیوں کو چوسے رہی تھی کہ جب میں نے اس کے اوپر والے ہونٹ پر اپنی زبان پھیرنی شروع کی ۔ وہ مچھلی بن آب کی طرح تڑپنے لگی ۔ اب میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ سے نکال کر ، اس کی ٹانگوں کے درمیان پھیرنا شروع کر دی ۔ زوحا نے اب بلند آواز میں چیخ ماری۔ میرا نفس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔ اس نے بستر کی چادر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور زور زور سے ہلنے لگی ۔ میں اسے یوں ہی دیکھنا چاہتا تھا ۔ برہنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے قرار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر لطف ۔۔۔۔۔۔۔بے قابو ۔۔۔۔۔اور میری ہمبستر ۔ اب میں اسے تر کر چکا تھا ۔ میں نے اپنا نفس زوحا کی ٹانگوں کے درمیان اس کے تر حصے پر لگایا اور اندر کو دھکیلنے لگا ۔ دو بار زور لگانے کے بعد زوحا نے اپنے بازو اور ٹانگیں بہت مضبوطی سے میرے گرد پھیلا دیں ۔ زوحا کے ناخن میری کمر میں چھپنے لگے ۔ بیڈ مسلسل ہل رہا تھا اور میں اپنے نفس کو پوری قوت سے اس کے اندر دھکیل رہا تھا ۔ زوحا کی چیخوں میں اب میرا نام بھی شامل ہو چکا تھا ۔ وہ اب بھاری سانسوں کے ساتھصارم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آرام سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اااہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ صارم۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔صارم پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔(بلند چیخیں )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے یہ آوازیں مجھے بری طرح سے اپنے قابو میں کر رہی تھیں ۔ میں چاہتا تھا وہ مزید چیخے ، چلائے اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو پائے ۔

Latest stories

Dark Night, Gangster and Avni

Hot English Sex Story Dark Night, Gangster and Avni. The dim blue light in Avni’s room was not enough to overcome the darkness of that...

Her Guilty Pleasure

“It’s been five months since Azhar left. I miss him every day. Every second, minute and hour. Some of his shirts remind me of...

Kama Sutra – Story of an unsatisfied queen

"Farewell my love, I hope I'll see you soon." And Maharaja set off. Maharaja as in Maharaja Dileep Singh. King of Raghavendranagar. And his...

لذت جنسی تجربہ اور اندھیری رات

عدیل سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنے صوفے پر بیٹھا کومل کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ اس کا قد چھ...

Similar stories

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Subscribe to our newsletter

error: Content is protected , seek permission!!